Menu '=' videos '=.colection>
Welcome to the fan box786 -فین باکس 786 میں خوش آمدید

Pages

 


  •   محبت کی  کچھ سچائیاں  محبت کی  کچھ سچائیاں

نہ جانے کیسا مقدر بنایا ہے بنانے والے نے ھم جسیے انسانوں کا جن کی ساری زندگی دکھوں دردوں کے ساتھ لڑتے ہوے گزر جاتی ہے ----- اپنا غم تھوڑا اور لوگوں کا زیادہ ------- دوسروں کا درد سمیٹتے سمیٹتے اپنی جھولی دکھوں سے بھر جاتی ہے -- اور آنکھوں سے اشکوں کے سیلاب بہتے ہیں - ھم ساری دنیا کے دکھ کے ساتھی ہیں مگر ہمارا دکھ بانٹنے والا کوئی نہیں ----- کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ تمھارے کھوکھلے قہقہوں کے پیچھے کونسا درد چھپا ہوا ہے ............. تمہاری آنکھوں میں اداسیوں نے ڈیرے کیوں لگاۓ ہوے ہیں ..... پتہ نہیں دنیا والے اتنے ظالم اور بے درد کیوں ہوتے ہیں کہ کسی کو خوش ہوتا دیکھ ہی نہیں سکتے -- ہر وقت کوئی نیا سے نیا زخم لگانے کا سوچتے رهتے ہیں ---- دوسروں کی خوشیوں کا قتل کر کے اپنے ارمانوں کا تاج محل سجاتے ہیں .
حد تو یہ ہے آدمی جس کی خاطر اپنی جان دین و دھرم ایمان سب کچھ داؤ پر لگا دیتا ہے جس کی خوشیوں پر اپنی خوشیاں قربان کر دیتا ہے جس کے سارے غم اپنی جھولی میں ڈال لیتا ہے -- اپنی ذات کی نفی کر کے جسکا شملہ اونچا کرتا ہے -- جس کی راہوں کے کانٹے چنتے چنتے اپنے ہاتھ تو ایک طرف اپنی روح بھی زخمی کر لیتا ہے .. جس کی خاطر دنیا کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرتا ہے - راتوں کی نیند اور دن کا چین گنوا دیتا ہے جس کی دن رات عبادت کرتا ہے جس کے نام پر جیتا ہے اور جس کے نام پر مرتا ہے ------- وھی وقت آنے پر ساتھ چھوڑ جاتا ہے 

پوچھ لو پھول سے کیا کرتی ہے 
کبھی خوشبو بھی وفا کرتی ہے 

لوگ یہاں خود ہی محبت کے جال میں پھینساتے ہیں خود ہی دل میں بستے ہیں -- ان کی ہر ادا کھلے عام دعوت دیتی ہے کہ آؤ ہمارے ساتھ پیار کرو ہمیں محبوب بناؤ --- اور جب انسان انھیں اپنا سب کچھ مان لیتا ہے تو وہ بغیر کسی وجہ کے کشتی دل کو طوفان کے حوالے کر کے خود کنارے پر بیٹھ کہ ہمارے ڈوبنے کا تماشا دیکتھے ہیں 

یہاں اہل محبت عمر بھر برباد رهتے ہیں 
یہ دریا ہے اسے کچا گھڑا اچھا نہیں لگتا 

مگر ایسا کب تک ہوگا کبھی تو الله سائیں اہل محبت کے حال پر ترس کھائیں گے -- کبھی تو اس کو ہمارے حال پر رحم آۓ گا -- کبھی تو وہ بھی آ کر پوچھے گا کہ کس حال میں ہو -------------؟ لکن شاید اس کو پتہ نہیں کے جو لوگ اپنی خوشیوں سے بڑھ کر دوسروں کی خوشیوں کو عزیز رکھتے ہیں وھی اچھے دوست ہوتے ہیں -- جب بھی کسی کے دل میں اپنی محبت کا چراغ جلایا جاتا ہے تو شروع شروع میں اس چراغ کی لو میں محبوب کے ہونٹوں کی لالی ہوتی ہے -- پھر جب دنیا درمیان میں آجاتی ہے تو اسی چراغ کی لو میں نفرت کی زردیاں آجاتی ہیں --لکن چراغ جلتا ہہی رہتا ہے --- محبت نہ سہی نفرت ہی سہی ........... کوئی تعلق کوئی رشتہ تو ہوتا ہے ---
میں نے بھی ہمیشہ چراغ سے چراغ جلایا ہے اچھے سچے اور مخلص ساتھی کی تلاش کی ہے -- اندھیرے جتنے بڑھ رہے ہیں آرزوئیں بھی اتنی ہی بڑھتی جا رہی ہیں ---- سفر ابھی جاری ہے ،، یہ سفر کب ختم ہوگا کوئی نہیں جانتا -- اس سفر رائگاں میں تپتی ریت پر ننگے پاؤں چلتے رہا ہوں ... بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتا رہا ہوں --- سوچ کی سولیوں پر لٹکتا رہا ہوں --- روز جیتا اور روز مرتا رہا ہوں ----
محبت کی  کچھ سچائیاں
سانسوں کے سلسلے کو نہ دو زندگی کا نام 
جینے کے باوجود بھی کچھ لوگ مر گئے 
قطرہ قطرہ محبتوں کا زہر پیتا رہا ہوں --- خوشیوں کے خزانے لٹاے ہیں اور آنسوؤں کے نذرانے پاۓ ہیں --شہر شہر گاؤں گاؤں اور گلی گلی کی خاک چھانی ہے -- 

ملا نہ پیار پھرا میں نگر نگر یارو 
اب تو آنسو بھی خشک ہو چلے ہیں ---- کہں ہو تم --ایک بار آجاؤ بس --- دیکھو تیرا دیوانہ اجڑ چکا ہے ----- تیری صورت دیکہنے کو ترس چکا ہے-- اب تو زندگی بھی بوجھ بن کر مجھ پر ہنستی ہے -------------- بس جہاں رہو سدا خوش رہو 

اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیں 

تم نے کسی کے ساتھ محبت نبھا تو دی

--------------------------------------------------------------  


_________ دنیا _________                                                             
ایک دیوانہ ایک اندھے مسافر کے ساتھ ٹھوکریں کھاتا رہا___ اسے گھاٹیاں ندیاں پہاڑ اور وادیاں عبور کراتا رہا اور جب اندھے کی آنکھوں کی روشنی واپس لوٹ آئ تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا
    " تم کون ہو ؟ میں تمھیں نہیں جانتا اور آگے بڑھ گیا

               -----------------------------------------------------------------------------------------------------------   

تیسری  دنیا  کے مسائل                                       
سرمایہ دار جاگیردار حکمران اور بالادست طبقہ تیسری دنیا کے محروم اور پسے ہوۓ طبقات کے لئے مسائل پیداکرکےکیسے اپنی بالادستی قائم کئے ہوۓ ہے اس کا تجربہ امریکہ کی بیالوجیکل لیبارٹری میں کیا گیا
ایک پنجرے میں چوہوں کا ایک جوڑارکھاگیا.ان کودوچوہوںکی نارمل خوراک دی گئی کچھ دیر بعدان کی تعداد دو سے چار ہوگئی مگر خوراک دو چوہوں کی رکھی گئی پھر تعدادچارسے آٹھ ہوگئی..خوراک وہی رہی اب ان کے رویوں میں تبدیلی آگئی ان میں چھینا جھپٹی ایک دوسرے کو مارناکاٹنا کمزوروں کو مارنادبانا غرانا عام ہوگیا
پھر انکی تعدادآٹھ سے سولہ ہوگئی.اب ان کے رویوںمیںایک خطرناک تبدیلی کا اضافہ ہوگیا طاقتور نے ضعیف اور کمزوروں کو مارکرکھانا شروع کردیا.اشتعال عام ہوگیا جس کا بس چلتا دوسرے کو ہلاک کر کے ہڑپ کرجاتا_
اس تجربے سے معلوم ہوگیاکہ پسماندہ اور مظلوم طبقہ میں مسائل اور جرائم کیوں پیدا ہوتے ہیں اور اخلاقیات کیوں ناپید رہتی ہے. عالمی طاقتیں بالادست مراعات یافتہ مالداروں سے مل کریہ بھیانک کھیل کھیلتی ہیں پسماندہ اور محروم طبقہ کا سب سے بڑاجرم یہ ہے کہ وہ اس ظلم وجبر کو قبول کرتے ہیں
اور مذہبی پیشوائیت کی طرف سے امیر غریب میں دولت کی تقسیم کو خدا کی مرضی یا تقدیرکا لکھاسمجھ کر قبول کرلیتے ہیں___ ان بے بس مجبور اور مظلوم طبقوں کا فرض ہے کہ وہ قرآنی نظام کو لیکر اٹھیں اور توحید الہی کی بنیاد پر متحد ہوکر ان مٹھی بھر ظالموں کے خلاف جہاد کریں جو عوام کے جائیز حقوق غصب کئے ہوۓ ہیں

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصرہو .آمین


            -------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------



"ایسے ہوتے ہیں حکمران"               
ایک خلقت میدان میں جمع تھی. میدان کے ایک سرے پر جنازہ نماز کے لئے تیار تھا.ہندوستان کے بہت بڑے بذرگ اور ولی اللۂ انتقال فرما چکے تھے. ہر سمت لوگوں کا ایک جم غفیر تھا.یکایک جنازے کے قریب ایک شخص نے کھڑے ہوکر بلند آواز میں انتقال کرنے والے بزرگ کی وصیت پڑھنا شروع کردی
میری نماز جنازہ وہ شخص پڑھاۓ جس نے اپنی پوری زندگی میں خود کوئ نماز قضا نہ کی ہو_
وصیت سن کر ہزاروں کے مجمع پر سکوت طاری ہو گیا.تین مرتبہ یہی وصیت دہرائ گئی مگر سب ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے.لیکن اتنے بڑے مجمع میں کوئ اس کڑی شرط کو پورا کرتا نظر نہ آتا تھا.
آخر ایک شخص کھڑا ہوا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا جنازے تک پہنچا _جنازہ پڑھانے کے بعد اس شخص نے بھیگی ہوئ آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور صرف ایک ذومعنی جملہ کہا
"مرنے والے مر گئے لیکن دوسروں کا راز فاش کر گئے"
انتقال فرمانے والے بذرگ کا نام حضرت خواجہ بختیار کاکی تھا اور نماز جنازہ پڑھانے والے بادشاہ وقت شمس ا لدین التمش تھے.
* آج کے انقلابی ،آزادی لیڈرو اور حکمرانو شرم ہے تو ڈوب مرو

---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------



پاکستان کا یوم آزادی قریب آرہا ہے..اقتدار کے بھوکے ہوس پرست سیاست دان بڑے زورو شور سے یہ دن منانے کی تیاریاں کروا رہے ہیں.کوئ سرکاری خزانے کو باپ کا مال سمجھ کر تو کوئ عوامی چندے کو بے دریغ لٹا رہا ھے.. لیکن سوال یہ ھے کہ عوام یہ دن کیوں منائیں؟ کیا خوشی دی ہے ھمیں ان بے غیرت سیاست دانوں نے ؟ عوام تو انگریز ہندو کی غلامی سے نکل کر دوبارہ سے ان انگریزوں کے کتے نہلانے والوں کی غلامی میں آگئے ھیں.. یہ لوگ اپنے مفادات کے لئے غریب عوام کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں اور پھر پھینک دیتے ہیں... یہ لوگ کبھی آمریت اور کبھی جمہوریت کی آڑ لے کے ہمارے پیارے وطن کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں...ھم لوگ سادہ لوح ہیں جو ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں.. کبھی کوئ لادین یہودی ایجنٹ آزادی کا نعرہ لگا کر نوجوانوں کو پیچھے لگا لیتا ہے تو کبھی کوئ کینڈین ملکہ کا وفادار مزھب کو سیڑھی بنا کے ملک کی معشیت تباہ کرکے اور سینکڑوں لوگوں کو ذلیل وخوار کر کے واپس کینڈا بھاگ جاتا ھے. کوئ اپنا اقتدار بچانے کے لئے سرکاری مشینری اور پیسے کا بے دریغ استمعال کر رہا ہے . تو کوئ اپنی باری لے کر ملک کو دونوں ہاتھ سے لوٹ کر: اپنی شریک حیات اور اس کے بھائ کو قتل کروا کے پھر سے اپنے دانت تیز کررہا ہے.. اور ایک اور کتا بھی ہے جو کہ پاکستان کا مسلمانوں کا ایک نمبر دشمن ہے.جس نے لال مسجد اور کراچی میں ہزاروں بے گناھوں کو شہید کروایا جو کہ موجودہ ملکی حالات اور تمام ہونے والی دہشت گردی کا زمہ دار ہے اور اب جیل میں پڑا سڑا رھا ہے.. اس کو بھی آس ھے کہ شائد وہ دوبارہ اقتدار میں آۓ گا اور بچے کھچے پاکستان کا بھی بیڑہ غرق کرے گا.. کیا ان لوگوں کے لئے ہم آزادی کا جشن منا ئیں؟ نہیں ھم ابھی آزاد نہیں ہوۓ .ھم تو ابھی پہلے سے بھی بدتر غلامی میں ہیں.
ہم آزادی کا جشں تب منائیں گے جب ہمیں ان ننگ وطن لوگوں سے آزادی ملے گی. جب ہمیں سول و ملٹری بیوروکریسی کے پنجۂ استبدادسے نجات ملے گی. جب اس پیارے وطن کو حضرت قائداعظم اور حضرت علامہ اقبال کے خواب کے مطابق ڈھالا جاۓ گا.. جب یہ وطن صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ بنے گا. تب ہم آزاد ہوں گے.
ورنہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں.کیونکہ ابھی تو ہم غلام ہیں.
خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو


    
SEARCH
Reactions:
Next
Newer Post
Previous
This is the last post.

Post a Comment

 
Top